Majid Raman ماجد رمن
**ماجد رمن ايك نظر ميں آج ماجد رمن اردو ادب و صحافت كا جانا پهچانا نام هے۔ 1956 سے انھوں نے افسانے لكھنا شروع كئے، 1962 ميں رامپور سے شائع هونے والے ماهنامه ٫٫دريچے٬٬ سے صحافتي ميدان ميں قدم ركھا مگر كامياب صحافي كي حيثيت سے خود كو متعارف كرانے كا موقع ملا 1967 ميں۔ هاشم رضا عابدي كي ادارت ميںرامپور سے شائع هونے والے اس وقت كے باوقار روزنامه قومي جنگ سے وابسته هونے كے بعد 1967 سے 1976 تك قومي جنگ سے وابسته رهنے كے بعد وه دهلي منتقل هوگئے جهاں سب سے پهلي ملازمت انھيں اداره بيسويں صدي ميں ملي، اسي دوران وه روزنامه الجمعيۃ ميں ججزوقتي سب ايڈيٹر كے طور پر كام كرتے رهے اور مختلف رسائل كے ليے ترجمعه اور آرٹكل نويسي كا كام بھي كيا۔ 1989ميں بيسويں صدي چھوڑنے كے بعد نامور اديب و صحافي سلامت علي مهدي كے هفت روزه بنياد اور ماهنامه نصرت كے ليے بطور انچارج كام كرتے رهے، انھوں نے خود اپنا ماهنامه اكيسويں صدي بھي جاري كيا جس كے 24 شمارے بغير كسي ناغه كے نكالنے كے بعد مالي مشكلات كے پيش نظر بند كرديا۔ فلمي ماهنامه گلفام كي ادارتي ذمه دارياں بھي سنبھاليں اور اپنے محسن حاجي انيس دهلوي كے فلمي جريدے فلمي ستارے اور دوست انور حسين كے ماهنامه نيلو اور ويكلي آكاش ديپ كو قلمي تعاون ديتے رهے۔ تقريباً تين برس چار جگهوں سے شائع هونے والے روزنامه مشرقي آواز ميں بحيثيت چيف ايڈيٹر كام كرنے كے بعد سهارا خاندان سے وابسته هوگئے اور تب سے اب تك شعبه اردو ميں كام كررهے هيں۔ ماجد رمن نے اپنے 53 ساله ادبي اور صحافتي سفر ميں چار هزار سے زياده افسانے اور سياسي مضامين لكھے هيں۔ اندرا كي واپسي نامي كتاب انھوںنے اس وقت لكھي جب 1977 ميں مسز اندرا گندھي اور ان كي پارٹي كا ملكي سياست سے تقريباً صفايا هوگيا تھا، ملك كي بڑي آبادي اس خيال كو مضحكه خيز تصور كرتي تھي كه مسز گاندھي دوباره سے برسراقتدار آئيںگي اور پھر ايسا هي هوا كه جنتا پارٹي حكومت 1979 ميں ٹوٹ گئي اور 1980 ميں مسز گاندھي دوباره سے برسراقتدار آگئيں لهذا انجم بك ڈپو كے زير طبع اس كتاب كي كافي پذيرائي بھي هوئي اور ماجد رمن كو اپني قلمي صلاحيت، سياسي سوجھ بوجھ اور دور بيني كا موقع بھي عطا كرديا۔ ان كي دوسري كتاب ناول كي شكل ميں سونے كا كفن عنوان سے عاكف بك ڈپو سے شائع هوئي جس كي مقبوليت كا اندازه اس بات سے لگايا جاسكتا هے كه لندن كے ٹائيگر بك ڈپو نے آڈيو كيسٹ بناكر فروخت كيا۔ ان كا ايك اور ناول آهٹيں زير طبع هے۔ انھوں نے غزل گوئي كے ميدان ميں بھي طبع آزمائي كي هے۔ معياري اشعار كهنے كے باوجود مشاعروں سے دور رهے هيں۔ جب كبھي شعر كهنے كے ليے طبيعت موزوں هوتي هے تو شعر كهكر ساتھيوں كو سنا كر يا غزل كي كسي ماهنامه، روزنامه يا هفت روزه ميں اشاعت پر اكتفا كرليتے هيں او رداد و تحسين كو سرمايه حيات تصور كرتے هيں۔ ان كي فراخدلي اور احباب نوازي كا عالم يه هے كه هميشه حساب دوستان دردل كے مقولے پر عمل كرتے هوئے قيام رامپور كے درميان اپنے كئي دوستوں كے اخبارات كو صرف دوستي كے رشتے كے عوض قلمي تعاون ديا۔ هفت روزه جسارت ، رامپور ٹائمز ، تعمير ادب ، جوهر ، اطهر اور پيلي بھيت سے شائع هونے والے هفت روزه اخلاص كو قلمي تعاون ديتے رهے۔ دهلي آنے كے بعد ان كا يه رشته ٹوٹ گيا ليكن رامپور كي ادبي و صحافتي دنيا ميں انھيں كافي قدر و منزلت كي نظر سے ديكھا جاتا هے۔ ان كي چند غزليںنمونه كے طور پر پيش هيں: غزليں زندگي كتني منازل سے گزر كر آئي جيسي گزري هو سو گزري به بسر كر آئي روشني ميرے مقدر ميں رهي هو كه نه هو شب تاريك ميں اس كي تو سحر كر آئي كيسي تصوير بنائي هے خدا نے ميري مشكليں جتني پڑھيں اتني نكھر كر آئي جب بھي چلنے لگي پروائي تري يادوں كي دل كي هر چوٹ پر اك ٹيس ابھر كر آئي سرِراهے وه ملے جب كبھي سهمے سهمے روح اك لمحه ميں برسوں كا سفر كر آئي جتني دشوار تھيں راهيں مري منزل كي رمن اتنے هي عزم سے يه زيست سفر كر آئي ------------------------------------------- دن كا سكون رات كا آرام لے گيا وه آج اپنے ساتھ مرا نام لے گيا وه مسكرا كے بزم سے اٹھ تو گيا مگر آنكھوں سے ميري عشق كا پيغام لے گيا دل كے ورق په لكھنا تھے جو مجھ كو داستاں وه آج اس كهاني كا انجام لے گيا حركت ميں كب تھے هم جو مٹانے كے واسطے پيروں ميں اپنے گردش ايام لے گيا مرضي سے والدين كي خاموش ره كے وه خود بے وفائي كرنے كا الزام لے گيا سجده ميں سر كٹاكے هوا يوں وه سربلند ايوان اقتدار كا اكرام لے گيا زلفيں سنوارنے كے بهانے سے اے رمن رعنائياں وه اپني سوئے بام لے گيا _______________________ غم حيات غم روزگار كيا كرتے كسي سے شكوه پروردگار كيا كرتے تمهارے شهر كے پتھر هي جب مقدر تھے تو زخم بھرنے كا هم انتظار كيا كرتے وه جس كے طرز تغافل كا هم شكار رهے اسي سے شكوه قول و قرار كيا كرتے چمن ميںره كے بھي جب بال و پر نهيں محفوظ تو هم بھي خواهش فصل بهار كيا كرتے تمهارے عشق كي غماز هيںمري آنكھيں چھلك جو جاتيں تو صبرو قرار كيا كرتے ضمير بيچ كے هم تو كبھي جيے هي نهيں ضمير و ظرف كے بدلے وقار كيا كرتے جو مشكليں هي مقدر تھيں تو رمن هم بھي مصيبتوں سے٬ غموں سے فرار كيا كرتے نور نگر ايكسٹنشن ،F/53 جامعه نگر، اوكھلا، نئي دهلي 25**